Monday, 18 October 2021

وہ پری زاد ہے یہ سب کو دکھانا تھا مجھے

 وہ پری زاد ہے یہ سب کو دکھانا تھا مجھے

صرف اک بار اسے ہاتھ لگانا تھا مجھے

یہ تو میرا ہی ہنر تھا جسے اظہار ملا

ورنہ مرشد نے کہاں اسم سکھانا تھا مجھے 

اس لیے بھی میں بہت دیر سے پہنچا تجھ تک

اپنے قدموں کا ہر اک نقش مٹانا تھا مجھے

میں کہانی کو سناتے ہوئے خود ہی رویا

جب کہ قصے کے مخاطب کو رلانا تھا مجھے

اپنی تیراکی بھی کرنی تھی سبھی پر ثابت

اور پھر خود کو بھی لہروں سے بچانا تھا مجھے

ایک ہی اشک بچا رکھا تھا میں نے آخر

اور اسی اشک کو دن رات بہانا تھا مجھے

میری شہرت کے تقاضے ہی الگ تھے تابش

گم شدہ رہتے ہوئے نام کمانا تھا مجھے


توصیف تابش

No comments:

Post a Comment