Monday, 18 October 2021

خود اپنی ذات کا انکار کرنے والا ہے

 خود اپنی ذات کا انکار کرنے والا ہے

کوئی تمام حدیں پار کرنے والا ہے

ابھی نہ ہاتھ بڑھا پگڑیوں کی جانب تُو

کہ یہ تماشہ سوئے دار کرنے والا ہے

کبھی کسی نے کیا ہے نہ کر سکے گا کوئی

جو میرے ساتھ مِرا یار کرنے والا ہے

مجھے وہ ماتمی آنکھیں لگائے جا رہا ہے

وہ میرے خواب عزادار کرنے والا ہے

مِرا تمہارا خدا ایک ہو نہیں سکتا

مِرا خدا تو بڑا پیار کرنے والا ہے

کسی کے آنے پہ دستِ ہنر کٹیں گے، کوئی

تمام شہر کو بے کار کرنے والا ہے

ابھی تو رات ہے، سب چین سے ہیں سوئے ہوئے

مگر جو صبح کا اخبار کرنے والا ہے


عقیل عباس

No comments:

Post a Comment