جھوٹے وعدوں کی تو میں چاہ نہیں کر سکتی
خود کو اتنا بھی تو کوتاہ نہیں کر سکتی
میں نے ہر لمس میں ہر سانس میں جینا ہے تجھے
تُو ہی منزل ہے، تجھے راہ نہیں کر سکتی
مِری تہذیب نے معیار الگ رکھے ہیں
شعر کہہ سکتی ہوں، پر آہ نہیں کر سکتی
ہر اذیت پہ تو لازم نہیں آنکھوں کا زیاں
ہر تمنا کو تو درگاہ نہیں کر سکتی
مِرا معیارِ سخن تھوڑا الگ ہے سب سے
تِرے ہر شعر پہ تو واہ نہیں کر سکتی
عقل رکھتی ہوں اسی عہد کی لڑکی ہوں میں
تیری پوجا تو مِرے شاہ! نہیں کر سکتی
افشاں کنول
No comments:
Post a Comment