Monday, 18 October 2021

جھوٹے وعدوں کی تو میں چاہ نہیں کر سکتی

 جھوٹے وعدوں کی تو میں چاہ نہیں کر سکتی

خود کو اتنا بھی تو کوتاہ نہیں کر سکتی

میں نے ہر لمس میں ہر سانس میں جینا ہے تجھے

تُو ہی منزل ہے، تجھے راہ نہیں کر سکتی

مِری تہذیب نے معیار الگ رکھے ہیں

شعر کہہ سکتی ہوں، پر آہ نہیں کر سکتی

ہر اذیت پہ تو لازم نہیں آنکھوں کا زیاں

ہر تمنا کو تو درگاہ نہیں کر سکتی

مِرا معیارِ سخن تھوڑا الگ ہے سب سے

تِرے ہر شعر پہ تو واہ نہیں کر سکتی

عقل رکھتی ہوں اسی عہد کی لڑکی ہوں میں

تیری پوجا تو مِرے شاہ! نہیں کر سکتی


افشاں کنول

No comments:

Post a Comment