Monday, 18 October 2021

مجھ دیے پر یہ اک عطا رہی ہے

 مجھ دِیے پر یہ اک عطا رہی ہے

خود محافظ مِری ہوا رہی ہے

لوگ سہمے ہوئے ہیں ہجرت سے

دُھول چہروں پہ مسکرا رہی ہے

تیرے ایمان کا خدا حافظ

تُو اسے نام سے بُلا رہی ہے

شور ہر گام کامیاب رہا

خامشی غم میں مبتلا رہی ہے

وقت پرکار بن گیا سو یہاں

بے بسی دائرے بنا رہی ہے

اس تعلق پہ موت واجب تھی

دوستی درمیان آ رہی ہے

تیرے متلاشیوں کی خیر جنہیں

تیرگی راستے بتا رہی ہے

اس کا ردعمل بھی دھیان میں رکھ

تُو اگر مسئلہ اٹھا رہی ہے

ہم غریبوں کی عمر بھر فیصل

پہلی ترجیح بس انا رہی ہے


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment