Tuesday, 11 October 2022

عجیب طرح کا منظر دکھائی دیتا ہے

عجیب طرح کا منظر دکھائی دیتا ہے

ہمارے گھر سے سمندر دکھائی دیتا ہے

یہ دیکھنا ہے کہ اس بار خوبصورت چاند

کسی کے بام سے کیونکر دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کیسے فسوں گر نے سحر پھونک دیا

تمام شہر ہی پتھر دکھائی دیتا ہے

کہیں نہ ان میں بہاروں کی کوئی سازش ہو

ہر ایک زخم گل تر دکھائی دیتا ہے

خود اپنی روح کے دریا کو پار کون کرے

زمانہ یوں تو شناور دکھائی دیتا ہے

جمال دوست سہی لاکھ بیکراں لیکن

عروج آنکھ کے اندر دکھائی دیتا ہے


عبدالرؤف عروج

No comments:

Post a Comment