Tuesday, 11 October 2022

آج موسم میں کچھ نمی سی ہے

آج موسم میں کچھ نمی سی ہے

برف رشتوں میں پھر جمی سی ہے

ساتھ سب ہیں مگر بنا تیرے

سُونی محفل ہے کچھ کمی سی ہے

میں فرشتہ سمجھ سمجھ رہی تھی جسے

اس کی فطرت بھی آدمی سی ہے

جب سے اس نے کہا وہ آئے گا

جانے کیوں سانس یہ تھمی سی ہے

آج وہ ہے مِری پناہوں میں

آج کی رات شبنمی سی ہے


الکا مشرا

No comments:

Post a Comment