اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی
اٹھ جاگ مسافر بھور بھئی
اب رین کہاں جو سووت ہے
لڑکپن کھیل میں کھویا
جوانی نیند بھر سویا
بڑھاپا دیکھ کے رویا
جو سووت سو کھووت ہے
جو جاگت ہے سو پاوت ہے
اٹھ نیند سے اکھیاں کھول ذرا
اور اپنے رب سے دھیان لگا
یہ پریت کرن کی ریت نہیں
رب جاگت ہے تُو سووت ہے
جو کل کرنا ہے آج کر لے
جو آج کرنا ہے اب کر لے
جب چڑین نے چگ کھیت لیا
پھر پچھتائے کیا ہووت ہے
نادان بھگت کرنی اپنی
اے پاپی پاپ میں چین کہاں
جب پاپ کی گٹھڑی سیس دھری
پھر سیس پکڑ کیوں رووت ہے
کبیر داس
No comments:
Post a Comment