کمان مجھ کو جو ہارے لشکر کی آ ملی تھی
یقین ہے یہ بہادری کی سزا ملی تھی
میں اس لیے بھی تو ہار اپنی پہ ہنس رہا تھا
کہ مجھ کو ہنسنے کی بچپنے میں دعا ملی تھی
اداس تھے سب شجر بہاروں میں اور دِیوں کو
یہ بد نصیبی کہ طاقچوں میں ہوا ملی تھی
میں نے چُوما تھا اور گلے سے لگا لیا تھا
مجھے اداسی زمانے بھر سے خفا ملی تھی
طلحہ رحمان
No comments:
Post a Comment