Saturday, 10 July 2021

اشک چھلکا ہے آبگینے سے

 اشک چھلکا ہے آبگینے سے

کس کو رغبت ہے اس دفینے سے

دیکھ دریا کی کتنی دہشت ہے

لوگ ڈرنے لگے سفینے سے

میں دسمبر پہ شعر کہتا ہوں

اس کو چِڑ ہے اسی مہینے سے

پشت پہ وار کر کے جائے گا

تم نے جس کو لگایا سینے سے

یہ زمیں کھینچتی رہے، لیکن

پاؤں پھسلے نہ تیرا زینے سے

وقت اُجرت کا ہو گیا شاید

جسم جلنے لگا پسینے سے

عشق بھی ہےعجیب سا رشتہ

دل کمینے کا دل کمینے سے


جی اے نجم

غلام عباس نجم

No comments:

Post a Comment