اشک چھلکا ہے آبگینے سے
کس کو رغبت ہے اس دفینے سے
دیکھ دریا کی کتنی دہشت ہے
لوگ ڈرنے لگے سفینے سے
میں دسمبر پہ شعر کہتا ہوں
اس کو چِڑ ہے اسی مہینے سے
پشت پہ وار کر کے جائے گا
تم نے جس کو لگایا سینے سے
یہ زمیں کھینچتی رہے، لیکن
پاؤں پھسلے نہ تیرا زینے سے
وقت اُجرت کا ہو گیا شاید
جسم جلنے لگا پسینے سے
عشق بھی ہےعجیب سا رشتہ
دل کمینے کا دل کمینے سے
جی اے نجم
غلام عباس نجم
No comments:
Post a Comment