Monday, 12 July 2021

چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے

 چلو سبیل کریں اس کو جا منانے سے

خوشی کو گیت میسر نہیں زمانے سے

سکوت ایسا ثمر بار تو کبھی نہ ہوا

گل ملال جھڑا اب کے شاخسانے سے

تمہارا قُرب ہتھیلی پہ ریت جیسا ہے

ہوا کے ساتھ بکھرتا ہے اک بہانے سے

ہم اپنے بس میں جبینوں کے بل نہیں جاتے

ہمیں چراغ بلاتے ہیں آستانے سے

وہ دل کے ساتھ اُلجھتی ہوئی کمان طلب

وہ ایک تیر اُچٹتا ہوا نشانے سے

ہمارے زخم تماشا نہیں ہیں حیرت ہیں

سو اس لیے بھی چُھپاتے ہیں اک زمانے سے


فرح رضوی

No comments:

Post a Comment