Monday, 12 July 2021

سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

 سلسلہ خوابوں کا سب یونہی دھرا رہ جائے گا

ایک دن بستر پہ کوئی جاگتا رہ جائے گا

ایک خواہش دل کو غیر آباد کرتی جائے گی

اک پرندہ دُور تک اُڑتا ہوا رہ جائے گا

چار سُو پھیلی ہوئی بے چہرگی کی دُھند میں

ایک دن بے عکس ہو کر آئینا رہ جائے گا

ہر صدا سے بچ کے وہ احساسِ تنہائی میں ہے

اپنے ہی دیوار و در میں گونجتا رہ جائے گا

مُدعا ہم اپنا کاغذ پر رقم کر جائیں گے

وقت کے ہاتھوں میں اپنا فیصلا رہ جائے گا

دو گھڑی کے واسطے آ کر چلے جاؤ گے تم

پھر مِری تنہائیوں کا سلسلا رہ جائے گا

اب دلوں میں کوئی گنجائش نہیں ملتی حیات

بس کتابوں میں لکھا حرفِ وفا رہ جائے گا


حیات لکھنوی

No comments:

Post a Comment