Monday, 12 July 2021

ایک رستے کی کہانی جو سنی پانی سے

 ایک رستے کی کہانی جو سنی پانی سے

ہم بھی اس بار نہیں بھاگے پریشانی سے

میری بے جان سی آنکھوں سے ڈھلکتے آنسو

آئینہ دیکھ رہا ہے بڑی حیرانی سے

میرے اندر تھے ہزاروں ہی اکیلے مجھ سے

میں نے اک بھیڑ نکالی اسی ویرانی سے

مات کھائے ہوئے تم بیٹھے ہو دانائی سے

جیت ہم لے کے چلے آئے ہیں نادانی سے

ورنہ مٹی کے گھڑے جیسے بدن ہیں سارے

معرکے سر ہوئے سب جرأت ایمانی سے

آئینہ چپکے سے منظر وہ چُرا لیتا ہے

تو سجاتا ہے بدن جب کبھی عریانی سے


سرفراز نواز

No comments:

Post a Comment