Tuesday, 7 September 2021

فقط آزمائش ہی یہ زندگی ہے

فقط آزمائش ہی یہ زندگی ہے

کبھی دُھوپ نکلی کبھی چاندنی ہے

جہاں میں یہ کیسی ہوا اب چلی ہے

بدی ہے جو نیکی تو نیکی بدی ہے

قدم پُھونک کر رکھنا لازم ہے اس میں

یہ ان کی گلی ہے، یہ ان کی گلی ہے

کسی کو سکوں اب نہیں ہے جہاں میں

جدھر دیکھیئے گا ادھر بے کلی ہے

لہو آج انساں کا پیتا ہے انساں

پھر اس کو سمجھتا ہے اک دل لگی ہے

غزل کو نہ سمجھو نِری شاعری تم

کہ وہ شیشۂ فکر کی اک پری ہے

کرو آخرت کی بھی تم فکر حماد

قیامت کی سر پر گھڑی اب کھڑی ہے


ابوالبیان حماد عمری

عبدالرحمان خان

No comments:

Post a Comment