فقط آزمائش ہی یہ زندگی ہے
کبھی دُھوپ نکلی کبھی چاندنی ہے
جہاں میں یہ کیسی ہوا اب چلی ہے
بدی ہے جو نیکی تو نیکی بدی ہے
قدم پُھونک کر رکھنا لازم ہے اس میں
یہ ان کی گلی ہے، یہ ان کی گلی ہے
کسی کو سکوں اب نہیں ہے جہاں میں
جدھر دیکھیئے گا ادھر بے کلی ہے
لہو آج انساں کا پیتا ہے انساں
پھر اس کو سمجھتا ہے اک دل لگی ہے
غزل کو نہ سمجھو نِری شاعری تم
کہ وہ شیشۂ فکر کی اک پری ہے
کرو آخرت کی بھی تم فکر حماد
قیامت کی سر پر گھڑی اب کھڑی ہے
ابوالبیان حماد عمری
عبدالرحمان خان
No comments:
Post a Comment