Saturday, 8 May 2021

گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

 گھر سے نکالے پاؤں تو رستے سمٹ گئے

ہم یوں چلے کہ راہ کے پتھر بھی ہٹ گئے

ہم نے کھُلے کواڑ پہ دستک سنی، مگر

وہ کون لوگ تھے کہ جو آ کر پلٹ گئے

در بند ہی رکھو کہ ہواؤں کا زور ہے

اب کے کھُلے کواڑ تو سمجھو کہ پٹ گئے

غارت گریٔ زورِ تلاطم ارے غضب

کشتی کے بادبان ہواؤں سے پھٹ گئے

صحرا کی تیز دھوپ گھنے جنگلوں کی چھاؤں

ان میں مِرے نصیب کے دن رات بٹ گئے

شہرت کی آرزو نے کیا بے وطن ہمیں

اتنی بڑھی غرض کہ اصولوں سے ہٹ گئے

جب جب بھی میں نے ترکِ وطن کا کیا خیال

قدموں سے میرے گاؤں کے رستے لپٹ گئے

کن سے کریں شکایتِ جور و ستم ظفر

اپنے گَلے تو اپنے ہی خنجر سے کٹ گئے


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment