Thursday, 22 April 2021

کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

 کھڑکی سے مہتاب نہ دیکھو

ایسے بھی تم خواب نہ دیکھو

ڈُوب رہے سورج میں یارو

دن کی آب و تاب نہ دیکھو

ہرجائی ہیں لوگ یہاں کے

اس بستی کے خواب نہ دیکھو

اندر سے ہم ٹُوٹ رہے ہیں

باہر کے اسباب نہ دیکھو

فن دیکھو بس ملاحوں کا

دریا کے سیلاب نہ دیکھو

سچے سپنے دو آنکھوں کو

جھُوٹے ہوں وہ خواب نہ دیکھو

دیوانہ ہوں، دیوانہ میں

تم میرے آداب نہ دیکھو

غم میں بھی ہم خوش رہتے ہیں

غم سہنے کی تاب نہ دیکھو

دیکھو اپنے عیب ظفر جی

کیسے ہیں احباب نہ دیکھو 


ظفر کلیم

No comments:

Post a Comment