Thursday, 22 April 2021

طاق پر رکھ کے مرے خواب سجانے والے

 طاق پر رکھ کے مِرے خواب سجانے والے

تجھ کو اچھا نہیں سمجھیں گے زمانے والے

گُل فروشا! بڑے دن بعد دی آواز ہمیں

لے کے آئے ہو وہی گُل وہ پرانے والے

ہنستے جاتے ہو معافی کی طلب کرتے ہوئے

ایسا کرتے ہیں بھلا یار منانے والے؟

تم کہاں سے لیے آتے ہو ہمارا انداز؟

کون ہیں لہجے یہاں بیچ کے کھانے والے

دیر تک جُرم کے احساس میں جلتے رہتے

ہم بھی گر ہوتے کوئی شمع بُجھانے والے

ناز و انداز وہ اپنایا ہے تم نے بھی کہ بس

ہم ہیں اب دیر تلک تم کو ستانے والے

راہ میں بھٹکے ہوئے ملتے ہیں اکثر نوشے

دوسرے لوگوں کو منزل کا بتانے والے


فاطمہ نوشین

No comments:

Post a Comment