کسی منزل، کسی امکان کا در کھولتا ہے
اک پرندہ مرے احساس میں پر کھولتا ہے
یہ محبت ہے کہ وحشت ہے کہ شوریدہ سری
سوچتا ہوں ترے بارے میں تو سر کھولتا ہے
بھاؤ کچھ ایسے گرے ہیں کہ ڈراتا ہے کساد
کوئی تو ہے جو سلا دیتا ہے شب زادوں کو
کوئی تو ہے جو درِ خوابِ سحر کھولتا ہے
پھر وہ خوش کام ہوا محوِ تکلم مجھ سے
پھر وہ صندوقچۂ لعل و گہر کھولتا ہے
اک دھنک سی نظر آتی ہے ترے سالکؔ کو
دیکھنے کے لیے جب دیدۂ تر کھولتا ہے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment