Tuesday, 13 December 2016

کسی منزل کسی امکان کا در کھولتا ہے

کسی منزل، کسی امکان کا در کھولتا ہے
اک پرندہ مرے احساس میں پر کھولتا ہے
یہ محبت ہے کہ وحشت ہے کہ شوریدہ سری
سوچتا ہوں ترے بارے میں تو سر کھولتا ہے
بھاؤ کچھ ایسے گرے ہیں کہ ڈراتا ہے کساد
کون اس شہر میں بازارِ ہنر کھولتا ہے
کوئی تو ہے جو سلا دیتا ہے شب زادوں کو
کوئی تو ہے جو درِ خوابِ سحر کھولتا ہے
پھر وہ خوش کام ہوا محوِ تکلم مجھ سے
پھر وہ صندوقچۂ لعل و گہر کھولتا ہے
اک دھنک سی نظر آتی ہے ترے سالکؔ کو
دیکھنے کے لیے جب دیدۂ تر کھولتا ہے

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment