کبھی شکستوں کے دکھ اٹھائے تو اس سے پوچھوں
وہ میری مانند ٹوٹ جائے تو اس سے پوچھوں
اسے بھی کوئی ستارہ منزل سے دور کرے
اسے بھی رستہ نظر نہ آئے تو اس سے پوچھوں
سفر میں وہ بھی کسی کڑے امتحان سے گزرے
اسے محبت میں کون سا دکھ دیا میں نے
کبھی نظر سے نظر ملائے تو اس سے پوچھوں
میری طرح دن چڑھے تلک وہ بھی سوئے سالک
اسے بھی شب بھر نیند نہ آئے تو اس سے پوچھوں
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment