Tuesday, 13 December 2016

زندگی کرتے رہے صرف اس امید پر

زندگی کرتے رہے
صرف اس امید پر
اِس سے اگلے موڑ پر
ایک دو ہی کوس پر
بخت کا وہ پیڑ ہے
جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں
بیٹھی ہے وہ اپسرا
جس کے کومل ہاتھ میں
زندگی کا ساز ہے
اور لبوں پر گیت ہیں
جن کے ہر اِک راگ میں
زندگی کا راز ہے
صرف اس امید پر
زندگی کرتے رہے
بخت سے لڑتے رہے

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment