زندگی کرتے رہے
صرف اس امید پر
اِس سے اگلے موڑ پر
ایک دو ہی کوس پر
بخت کا وہ پیڑ ہے
جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں
جس کے کومل ہاتھ میں
زندگی کا ساز ہے
اور لبوں پر گیت ہیں
جن کے ہر اِک راگ میں
زندگی کا راز ہے
صرف اس امید پر
زندگی کرتے رہے
بخت سے لڑتے رہے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment