Tuesday, 13 December 2016

اگر خدا ہے خدا کا کلام زندہ ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امامِ عالی مقام

اگر خدا ہے، خدا کا کلام زندہ ہے
تو پھر یہ طے ہے کہ میرا امام زندہ ہے
غمِ حسین مٹانے سے مٹ نہیں سکتا
شعورِ اہلِ درود و سلام زندہ ہے
ہمیں تو ظلمتِ شب سے نہیں کوئی تشویش
وہ رشکِ مہر، وہ ماہِ تمام زندہ ہے
حسین لاشوں کو چھوتے تھے نام لے لے کر
جواب آتا تھا آقا! غلام زندہ ہے
فلک پہ خلد کی جاگیر بھی ہے اس کے سپرد
زمین پر بھی وہ عالی مقام زندہ ہے
یزید کچے گھروندوں میں دب گیا سالک
حسین ابنِ علی کا نظام زندہ ہے

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment