عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بحضور امامِ عالی مقام
اگر خدا ہے، خدا کا کلام زندہ ہے
تو پھر یہ طے ہے کہ میرا امام زندہ ہے
غمِ حسین مٹانے سے مٹ نہیں سکتا
شعورِ اہلِ درود و سلام زندہ ہے
ہمیں تو ظلمتِ شب سے نہیں کوئی تشویش
حسین لاشوں کو چھوتے تھے نام لے لے کر
جواب آتا تھا آقا! غلام زندہ ہے
فلک پہ خلد کی جاگیر بھی ہے اس کے سپرد
زمین پر بھی وہ عالی مقام زندہ ہے
یزید کچے گھروندوں میں دب گیا سالک
حسین ابنِ علی کا نظام زندہ ہے
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment