ہم مر رہے تھے، لوگ کھڑے دکھتے رہے
سب رشتہ دار ضِـد پہ اڑے دیکھتے رہے
تھی اتنی بے بسی کہ کڑے امتحان سے
بچے گزر رہے تھے، بڑے دیکھتے رہے
ہر بار وہ بدل کے گزرتا تھا راستہ
ہم کتنے راستوں میں پڑے دیکھتے رہے
کچھ اور دیکھنے کا ہمیں وقت کب ملا؟
لمحات زندگی کے کڑے دیکھتے رہے
کچھ اُس نگاہِ ناز کے حق میں تھیں، کچھ خلاف
ہم اپنی خواہشوں میں دھڑے دیکھتے رہے
ذیشان مہدی
No comments:
Post a Comment