جاؤں گا کہاں تیری کہانی سے نکل کر
ماہی ہوں میں، مر جاؤں گا پانی سے نکل کر
جب سامنے رکھتا ہوں تِری کوئی نشانی
تُو سامنے آتا ہے نشانی سے نکل کر
اب کیا ہے بڑھاپے کے سوا میرے بدن پہ
یہ کون گیا میری جوانی سے نکل کر؟
سائے میں کہیں بیٹھ کے لکھتا ہوں جو غزلیں
شیرینی سے آتی ہے خوبانی سے نکل کر
ذیشان اگر وہ مجھے آواز لگائے
جاؤں گا میں اس عالمِ فانی سے نکل کر
ذیشان مہدی
No comments:
Post a Comment