Saturday, 22 August 2020

نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں

نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو
اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں
ایک جادو ہے سبھی کا کئی منتر، لیکن
سبز گوں ہیں کہی نیلی کہی بھوری آنکھیں
اسے پہلو میں بیٹھا کر اسے تکنے کا نشہ
کس قدر ہو گئی چہرے پر ضروری آنکھیں

​احمد سلمان

1 comment:

  1. اس کے انجیل چہرے پہ زبوری آنکھیں اس مصرعہ کی وضاحت کر دے گے جناب 😒

    ReplyDelete