دل سے اک خواہش بیتاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندئ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صَوت ہوں لیکن تیرا قاتل لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
ہر وہ الزام جو دشمن نہ لگاۓ مجھ پر
وہ میرا حلقۂ احباب لگا دیتا ہے
رات دیتا ہے تھکے دن کو تھپکنے کیلئے
پھر تعاقب میں کوئی خواب لگا دیتا ہے
احمد سلمان
No comments:
Post a Comment