Saturday, 22 August 2020

دل سے اک خواہش بے تاب لگا دیتا ہے

دل سے اک خواہش بیتاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندئ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صَوت ہوں لیکن تیرا قاتل لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
پھر کہیں بیچ میں ماہتاب لگا دیتا ہے
ہر وہ الزام جو دشمن نہ لگاۓ مجھ پر
وہ میرا حلقۂ احباب لگا دیتا ہے
رات دیتا ہے تھکے دن کو تھپکنے کیلئے
پھر تعاقب میں کوئی خواب لگا دیتا ہے

احمد سلمان

No comments:

Post a Comment