Friday, 18 March 2022

دلوں کے باب میں لکھا تھا قاعدے کی طرح

 دلوں کے باب میں لکھا تھا قاعدے کی طرح

زیاں سمیٹتے رہیۓ گا فائدے کی طرح

وہ گلبدن ہوا رقصاں تو پھر کُھلا ہم پر

کسی گلاب کے منظوم ترجمے کی طرح

عجیب حسن تھا آرائشوں سے ماند پڑا

وضاحتوں سے بگڑتے معاملے کی طرح

ادھرہی رقص کیا اور ادھرہی مر بھی گئے

دِیے کی لو پہ گئے ہم گئے ہوئے کی طرح

ہمارے بیچ کوئی دوسرا نہیں تھا کبھی

پھر ایک دن وہ ملا مجھ سے دوسرے کی طرح


احمد سلمان

No comments:

Post a Comment