Sunday, 23 August 2020

جو دکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو دِکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دِکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
یہ شہر سارا تو روشنی میں کھُلا پڑا ہے، سو کیا لکھوں میں
وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دِیا ہے وہ شاعری ہے
دلوں💕 کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمہاری باتوں کا ہر توقف جو بولتا ہے، وہ شاعری ہے
تمام دریا جو اک سمندر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے
وہ ایک دریا جو راستے میں ہی رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

احمد سلمان​

No comments:

Post a Comment