جو دِکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دِکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
یہ شہر سارا تو روشنی میں کھُلا پڑا ہے، سو کیا لکھوں میں
وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دِیا ہے وہ شاعری ہے
دلوں💕 کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں
تمام دریا جو اک سمندر میں گر رہے ہیں تو کیا عجب ہے
وہ ایک دریا جو راستے میں ہی رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
احمد سلمان
No comments:
Post a Comment