Sunday, 23 August 2020

اگر جانا ہی لازم ہے

اگر جانا ہی لازم ہے

اگر جانا ہی لازم ہے
تو پھر جانے سے پہلے تم
وہ سب سامان لے جاؤ
جو ماضی کے کئی سالوں کے کمروں میں
میرے احساس کی شیلفوں کے خانوں میں
یقیں کے کونے کھدروں میں
امیدوں کی درازوں میں
رکھا ہے اور تمہارا نام لیتا ہے
وہ لے جاؤ

اگر جانا ہی لازم ہے
اگر جانا ہی لازم ہے
تو لے جاؤ
وہ آیت جو میرے دل کی عبادت گاہ میں رکھے ہوۓ
پہلے صحیفے کے شروع ہی میں اتاری تھی
کہ تم کوعشق ہے مجھ سے
وہ لے جاؤ
اگر جانا ہی لازم ہے
اگر جانا ہی لازم ہے تو
اپنے ساتھ لے جاؤ
تم اپنے لمس کا عیسیٰ
تم اپنے دھیان کا گوتم
تم اپنی معجزہ آنکھیں
وہ آنکھیں جو میری آنکھوں سے کہتی تھیں
ہمارے خواب سانجھے ہیں
وہ جادو لفظ کے جس نے میرے حیرت زدہ سے جسم کو منتر سکھاۓ تھے
وہ گہرا دھیان
کہ جس کے گیان پر، ایمان تھا میرا
وہ لے جاؤ
اگر جانا ہی لازم ہے
اگر جانا ہی لازم ہے
تو اپنے ساتھ لے کر جاؤ
وہ نظریں سب، زبانیں سب
جو مجھ کو نوچ کھائیں گی
سوالوں سے، محبت کے حوالوں سے
مگر یہ سب حوالے تو تمہارے ساتھ بھی ہوں گے
تمہیں بھی پیار تھا مجھ سے
تمہیں بھی دھیان تھا میرا
تمہارے جسم پر بھی تو ہمارا لمس لکھا ہے
تمہاری آنکھ میں بھی تو ہماری آنکھ چمکی تھی
تمہارے ہونٹ پر بھی تو ہمارے ہونٹ سُلگے تھے
تمہیں بھی نوچ کھائیں گی
یہ نظریں سب، زبانیں سب
سوالوں سے، محبت کے حوالوں سے
تمہارے پاس بھی میرا بہت سامان رکھا ہے
تو پھر ایسا کریں جاناں
کہ وہ سامان تم رکھو
یہ سامان میں رکھوں
خدا تم کو سُکھی رکھے
خدا مجھ کو سُکھی رکھے

​احمد سلمان

No comments:

Post a Comment