Thursday, 9 September 2021

سورج کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں

 جانتی ہو، نظمیں لکھ لینے سے

دل کی سیاہی نہیں دھلتی

اس ابلتے کھارے پانی میں

حافظے کی جھاگ نہیں گھلتی

پھر بھی یہ آخری قطرۂ جاں

دل کی سیپی میں سنبھالے

سورج کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوں

شاید تمہارے جانے کا سن کر

آج رات بھی کوئی سمندر بین کرتا

مجھ میں سمانے آ جائے


رضی حیدر

No comments:

Post a Comment