Thursday, 6 August 2020

مل گئی جب بھی نظر دونوں ہو گئے خاموش

مل گئی جب بھی نظر دونوں ہو گئے خاموش
کچھ نہ تھی بات مگر دونوں ہو گئے خاموش
اپنے ہی عکس سے ایک خوف ہوا یوں بیدار
آئینہ" اور "نظر" ہو گئے دونوں خاموش"
ڈوبتی شام نے جب دل میں اداسی رکھی
پھر ہوا اور شجر ہو گئے دونوں خاموش
آنکھ نے دل سے کہا ہجر کے سناٹے میں
کون بولے گا اگر ہو گئے دونوں خاموش
اولیں قرب میں آغازِ مسافت کے حریص
جب ملا اذنِ سفر، ہو گئے دونوں خاموش
ہائے، کس وقت رضی مسند اعزاز ملی
جب لہو اور ہنر ہو گئے دونوں خاموش

رضی حیدر 

No comments:

Post a Comment