مل گئی جب بھی نظر دونوں ہو گئے خاموش
کچھ نہ تھی بات مگر دونوں ہو گئے خاموش
اپنے ہی عکس سے ایک خوف ہوا یوں بیدار
آئینہ" اور "نظر" ہو گئے دونوں خاموش"
ڈوبتی شام نے جب دل میں اداسی رکھی
آنکھ نے دل سے کہا ہجر کے سناٹے میں
کون بولے گا اگر ہو گئے دونوں خاموش
اولیں قرب میں آغازِ مسافت کے حریص
جب ملا اذنِ سفر، ہو گئے دونوں خاموش
ہائے، کس وقت رضی مسند اعزاز ملی
جب لہو اور ہنر ہو گئے دونوں خاموش
رضی حیدر
No comments:
Post a Comment