Tuesday, 21 December 2021

زخم شاداب دیکھتے ہیں مجھے

 زخم شاداب دیکھتے ہیں مجھے

درد بے تاب دیکھتے ہیں مجھے

خواب دیکھے تھے ٹوٹ کر میں نے

ٹوٹ کر خواب دیکھتے ہیں مجھے

داغِ دل ضو فشاں ہوئے یوں کہ

شمس و مہتاب دیکھتے ہیں مجھے

کھل گیا ہو نہ دوستی کا بھرم

ڈر کے احباب دیکھتے ہیں مجھے

اک تناؤ سا اپنے آپ سے ہے

کھنچ کے اعصاب دیکھتے ہیں مجھے

مجھ میں شاعر تو اور ہے پنہاں

اور ارباب دیکھتے ہیں مجھے


ڈاکٹر سکینہ پنہاں

No comments:

Post a Comment