Friday, 9 April 2021

جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا

 جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا

ہمدم مِری قسمت کا ستارہ بھی تو ہو گا

یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید

اے جانِ طلب! کوئی ہمارا بھی تو ہو گا

ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں، لیکن

پہلے تِری جانب سے اشارہ بھی تو ہو گا

ہم گردشِ گردابِ الم سے نہیں ڈرتے

طوفاں ہے اگر آج کنارہ بھی تو ہو گا


اطہر راز

No comments:

Post a Comment