جینا ہے تو جینے کا سہارا بھی تو ہو گا
ہمدم مِری قسمت کا ستارہ بھی تو ہو گا
یہ سوچ کے اس شہر میں ہم آئے تھے شاید
اے جانِ طلب! کوئی ہمارا بھی تو ہو گا
ہم عشق کی منزل میں خطاوار ہیں، لیکن
پہلے تِری جانب سے اشارہ بھی تو ہو گا
ہم گردشِ گردابِ الم سے نہیں ڈرتے
طوفاں ہے اگر آج کنارہ بھی تو ہو گا
اطہر راز
No comments:
Post a Comment