Friday, 9 April 2021

اسی نے ساتھ دیا زندگی کی راہوں میں

 اسی نے ساتھ دیا زندگی کی راہوں میں

وہ اک چراغ جو جلتا رہا نگاہوں میں

شمیمِ گُل سے سُبک تر کرن سے نازک تر

کوئی لطیف سی شے آ گئی ہے باہوں میں

یہ کس کی حشر خرامی کی بات اٹھی ہے

ہمارا نام پُکارا گیا گواہوں میں

خبر نہ تھی کہ وہی اپنی یوں خبر لیں گے

شمار کرتے تھے ہم جن کو خیر خواہوں میں

ابھی ہیں راکھ میں چنگاریاں دبی لیکن

مزا کہاں ہے وہ پہلا سا اب کی چاہوں میں

ہمیں نے زیست کے ہر روپ کو سنوارا ہے

لُٹا کے روشنئ طبع جلوہ گاہوں میں

رگوں میں جیسے رواں ہے لہو تمنائی

کسی کی موج کرم ہے مِرے گناہوں میں


عزیز تمنائی

No comments:

Post a Comment