Thursday, 20 January 2022

کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

 کوئی تو ایسا ہو


کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

جو لرزشوں کو قرار بخشے

خزاں رسیدہ سنہرے پتوں کی

سسکیوں کو بہار بخشے

کوئی تو ایسا ہو زندگی میں

جو مدتوں کا عذاب توڑے

جو رنجشوں کے حساب چھوڑے

جو درد بانٹے، جو آہ سن لے

ستم کے مارے غریب دل کی

اذیتوں سے بھری غزل پر

تڑپتے اشکوں کی واہ سن لے

کوئی تو ایسا ہو زندگی میں


وجاہت باقی

No comments:

Post a Comment