کوئی تو ایسا ہو
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
جو لرزشوں کو قرار بخشے
خزاں رسیدہ سنہرے پتوں کی
سسکیوں کو بہار بخشے
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
جو مدتوں کا عذاب توڑے
جو رنجشوں کے حساب چھوڑے
جو درد بانٹے، جو آہ سن لے
ستم کے مارے غریب دل کی
اذیتوں سے بھری غزل پر
تڑپتے اشکوں کی واہ سن لے
کوئی تو ایسا ہو زندگی میں
وجاہت باقی
No comments:
Post a Comment