Sunday, 23 May 2021

مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

مِرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سو لگتا ہے کہانی ختم ہوتی جا رہی ہے

اسے چھُو کر لبوں سے پھول جھڑنے لگ گئے ہیں

مِری آتش فشانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سُلگتے دشت میں اب دھوپ سہنا پڑ گئی ہے

تمہاری سائبانی ختم ہوتی جا رہی ہے

ہمارا دل زمانے سے الجھنے لگ گیا ہے

تمہاری حکمرانی ختم ہوتی جا رہی ہے

سمندر سے سمٹ کر جھیل بنتے جا رہے ہیں

ہماری بے کرانی ختم ہوتی جا رہی ہے


احمد خیال

No comments:

Post a Comment