Tuesday, 18 January 2022

قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

 قیامت سے قیامت سے گزارے جا رہے تھے

یہ کن ہاتھوں ہزاروں لوگ مارے جا رہے تھے

سنہری جل پری دیکھی تو پھر پانی میں کودے

وگرنہ ہم تو دریا کے کنارے جا رہے تھے

سمندر ایک قطرے میں سمیٹا جا رہا تھا

شُتر سُوئی کے ناکے سے گزارے جا رہے تھے

چمن زاروں میں خیمہ زن تھے صحراؤں کے باسی

ہرے منظر نگاہوں میں اتارے جا رہے تھے

سبھی تالاب پھولوں اور کرنوں سے بھرا تھا

بدن خوشرنگ پانی سے نکھارے جا رہے تھے


احمد خیال

No comments:

Post a Comment