یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی
وہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتی
خلش جگر میں ہے دل کو خبر نہیں ہوتی
چبھی ہے پھانس ادھر سے ادھر نہیں ہوتی
عبث ہی کل کے لیے التوائے مشقِ خرام
قیامت آج ہی کیوں فتنہ گر نہیں ہوتی
جو ان سے دور ہے اس کے لئے ہیں چشم براہ
ہم ان کے پاس ہیں ہم پر نظر نہیں ہوتی
اجل کو روکیۓ کیا کہہ کے ان کے آنے تک
کہ اب تو بات بھی اے چارہ گر نہیں ہوتی
وہ آ گئے ہیں تو آنسو ضرور پونچھیں گے
اب آنکھ کیوں مِری اشکوں سے تر نہیں ہوتی
کمال بے ہنری سے غنی ہوں میں احسن
مجھے ضرورت عرضِ ہنر نہیں ہوتی
احسن مارہروی
No comments:
Post a Comment