Tuesday, 18 January 2022

یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی

 یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی

وہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتی

خلش جگر میں ہے دل کو خبر نہیں ہوتی

چبھی ہے پھانس ادھر سے ادھر نہیں ہوتی

عبث ہی کل کے لیے التوائے مشقِ خرام

قیامت آج ہی کیوں فتنہ گر نہیں ہوتی

جو ان سے دور ہے اس کے لئے ہیں چشم براہ

ہم ان کے پاس ہیں ہم پر نظر نہیں ہوتی

اجل کو روکیۓ کیا کہہ کے ان کے آنے تک

کہ اب تو بات بھی اے چارہ گر نہیں ہوتی

وہ آ گئے ہیں تو آنسو ضرور پونچھیں گے

اب آنکھ کیوں مِری اشکوں سے تر نہیں ہوتی

کمال بے ہنری سے غنی ہوں میں احسن

مجھے ضرورت عرضِ ہنر نہیں ہوتی


احسن مارہروی

No comments:

Post a Comment