Tuesday, 18 January 2022

جو ہے نہیں وہ محبت جتاتا رہتا ہے

 جو ہے نہیں وہ محبت جتاتا رہتا ہے

سو دور بھیج کے واپس بلاتا رہتا ہے

وہ آزمودہ بہت نسخے پاس ہوتے ہوئے

کئی نئے نئے گُر آزماتا رہتا ہے

وہ بات شیشۂ دل میں دراڑ جس سے پڑی

اسی کے پھر سے کرشمے دکھاتا رہتا ہے

میں اپنے رنگ میں رنگنے میں محو رہتی ہوں

وہ اپنے ڈھنگ سے دنیا کماتا رہتا ہے

اسے تراش لیا ہے مِری محبت نے

جو سنگریزوں سے ہیرے بناتا رہتا ہے

وہ عنبرین مجھے جاں سے پیارا ہو گیا ہے

سو زخم اب بہ سہولت لگاتا رہتا ہے


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment