ہم مر بھی جائیں
تو کیا ہو گا؟
ہم تو دن اور رات
کتنی بار ہی مرتے ہیں
اَب تو گِننا چھوڑ دیا
ہمارے مرنے سے
کچھ بھی تو زندہ نہیں ہوتا
ہماری موت کی کوکھ
اتنے زمانوں سے بانجھ ہے
کہ اب اُس کے بانجھ پن پر
پھُوڑی ڈالیں
تو بین کرنے کو
اپنے بھی نہ آئیں
ہمراز احسن
No comments:
Post a Comment