Tuesday, 18 January 2022

ہم مر بھی جائیں تو کیا ہو گا

ہم مر بھی جائیں 

تو کیا ہو گا؟

ہم تو دن اور رات

کتنی بار ہی مرتے ہیں

اَب تو گِننا چھوڑ دیا

ہمارے مرنے سے 

کچھ بھی تو زندہ نہیں ہوتا

ہماری موت کی کوکھ 

اتنے زمانوں سے بانجھ ہے 

کہ اب اُس کے بانجھ پن پر 

پھُوڑی ڈالیں 

تو بین کرنے کو 

اپنے بھی نہ آئیں


ہمراز احسن

No comments:

Post a Comment