Saturday, 22 May 2021

کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

 کل رات اک عجیب پہیلی ہوئی ہوا

جلتے ہوئے دیوں کی سہیلی ہوئی ہوا

شدت سے ہانپ ہانپ کے مردہ سی ہو چکی

وحشت زدہ چراغ سے کھیلی ہوئی ہوا

پلٹی تو داستان بھی پلٹے گی ایک دم

وادی کی بند سمت دھکیلی ہوئی ہوا

سب پات جھڑ چکے ہیں دیے بھی شکستہ ہیں

رقص و جنوں کی رت میں اکیلی ہوئی ہوا

کھڑکی سے آتے ہی مرے ماتھے کو چھوتی ہے

اس مہربان کی سی ہتھیلی ہوئی ہوا


احمد خیال

No comments:

Post a Comment