Saturday, 22 May 2021

نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار

 نہ پوچھ ہم سے ہماری اڑان چھوڑ نہ یار

بڑی طویل ہے یہ داستان چھوڑ نہ یار

نکل پڑے جو سفر میں تو سوچنا کیسا

کہاں ہے دھوپ کہاں سائبان چھوڑ نہ یار

دبی ہے آگ جو دل میں اسے کریدو مت

یہیں کہیں تھا ہمارا مکان چھوڑ نہ یار

یہ سوچ ہم کو پہنچنا ہے اپنی منزل تک

نہ گن کسی کے قدم کے نشان چھوڑ نہ یار

خوشی تھی مول تو غم تھا بیاج کے جیسا

تمام عمر بھرا ہے لگان چھوڑ نہ یار

ہوا ہے زندگی بھر کی جگاڑ روٹی کا

بکی ہے قسطوں میں اپنی دکان چھوڑ نہ یار

لباس سنتی ہے امتی محمدی ہوں

نہ پوچھ اب یہ نسب خاندان چھوڑ نہ یار

یہ سب بلندیاں اللہ کے لیے ہیں چاند

مقام مرتبہ رتبہ یہ شان چھوڑ نہ یار


چاند اکبرآبادی

No comments:

Post a Comment