Saturday, 22 May 2021

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

 لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے

یہ زندگی تھی جو دھتکارتی رہی مجھ کو

میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے

بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے

سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے

کوئی تو اس پہ قیامت گزر گئی ہو گی

کہ آپ بیتی وہ رونے لگا سناتے ہوئے

عجیب نیند میں تھا خواب گاہ ہستی کی

میں اس جہاں سے ترے اس جہاں میں جاتے ہوئے

کہانی گو کے ہر اک لفظ میں تھی جادوگری

رلا دیا تھا ہر اک شخص کو ہنساتے ہوئے

نہ میری چشم تمنا میں جچ سکی دنیا

پلٹ کے دیکھتا کیسے اسے میں جاتے ہوئے

میں جل اٹھا تھا ترے ہی خیال کی لو سے

تجھے خیال نہ آیا مجھے بجھاتے ہوئے


احمد عرفان

No comments:

Post a Comment