Monday, 17 May 2021

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

 محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں

ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے

کہ فطرت نے بھرا ہے حُسن خود اپنا حسینوں میں

ہوائے تُند ہے، گرداب ہے، پُر شور دھارا ہے

لیے جاتے ہیں ذوقِ عافیت سی شے سفینوں میں

میں ہنستا ہوں مگر اے دوست اکثر ہنستے ہوئے بھی

چھُپائے ہوتے ہیں داغ اور ناسُور اپنے سینوں میں

میں ان میں ہوں جو ہو کر آستانِ دوست سے محروم

لیے پھرتے ہیں سجدوں کی تڑپ اپنی جبینوں میں

مِری غزلیں پڑھیں سب اہلِ دل اور مست ہو جائیں

مئے جذبات لایا ہوں میں لفظی آبگینوں میں


اختر انصاری

No comments:

Post a Comment