Monday, 17 August 2020

اف یہ بد مست مے کدہ میرا

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا
اف یہ بد مست مے کدہ میرا
نارسائی پہ ناز ہے جس کو
ہائے وہ شوقِ نا رسا میرا
عشق کو منہ دکھاؤں گا کیونکر
ہجر میں رنگ اڑ گیا میرا
دلِ غم دیدہ پر خدا کی مار
سینہ آہوں سے چِھل گیا میرا
یاد کے تند و تیز جھونکے سے
آج ہر داغ جل اٹھا میرا
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
منتِ چرخ سے بری ہوں میں
نہ ہوا جیتے جی بھلا میرا
ہے بڑا شغل زندگی اختر
پوچھتے کیا ہو مشغلہ میرا

اختر انصاری

No comments:

Post a Comment