Monday, 3 January 2022

رگوں میں خون علی ہے مگر غلام حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

درگاہِ مظلومِ کربلا میں


رگوں میں خونِ علیؑ ہے مگر غلامِ حسینؑ

مجھے بتایا ہے عباسؑ نے مقامِ حسینؑ

میں سوچتا ہوں کہ کارِ خدا ہے ذکرِ رسولؐ

اور آسمان و زمیں زیرِ انتظامِ حسینؑ

اسی لیے تو خدا اس پہ زور دیتا ہے

نماز ہم کو سکھاتی ہے احترامِ حسینؑ

میں کیا بتاؤں کہ معیارِ مجتبیٰ کیا ہے

مگر یہی کہ ہیں بعدِ علیؑ، امامِ حسینؑ

وہ تیر مار کے اس واسطے بھی رویا ہے

کہ سرخرو ہوا اور اس سے ابتسامِ حسینؑ

فشارِ قبر کا راجز! کو کیوں ہو اندیشہ

وہ عمر کاٹ رہا ہے، اگر بنامِ حسینؑ


راجز ودوان

علی ذوالقرنین

No comments:

Post a Comment