دعائیہ کلام
اے ربِ کائنات! ہے گردش رُکی ہوئی
سب نے بدن پہ اوڑھ لی دنیا بجھی ہوئی
اب ہر چراغ لو کو ترستا ہے صبح و شام
اب ہر نگہ میں نور کا ہوتا ہے انہدام
دنیا کا گوشہ گوشہ پریشاں دکھائی دے
ہر ذہن ابتلاؤں میں ویراں دکھائی دے
نیندوں میں کوئی خواب بھی آتا نہیں ہمیں
آئینہ کوئی عکس، دکھاتا نہیں ہمیں
پہنچے نہ عرش تک کسی درویش کی دعا
یہ اشک کس کے سامنے رکھیں اب التجا
دریا نے جتنے موتی تھے ہم سے چھپا لیے
اور آسماں نے سارے ستارے بجھا دئیے
نفرت سے ہر شجر ہمیں دیکھتا ہے اب
موسم ہماری سمت گھٹن بھیجتا ہے اب
گلشن سے ہر طرف ہی گریزاں ہیں تتلیاں
مٹنے لگیں ہیں چار سو خوشبو کی بستیاں
بے وقت کی اذان سے گونجے ہر ایک گھر
پھر بھی فضا ؤں پر نہیں ہوتا کوئی اثر
پہلے سے بڑھ کے دھوپ یہ سورج بھی ڈھائے آج
ناراض ہو گئے ہیں درختوں کے سائے آج
آنکھیں ہر ایک صبح پہ ماتم کناں ہیں آج
بادِ صبا کو بھیجنے والے کہاں ہیں آج
تسخیرِ کائنات کے دعوے کیے بہت
مرضی سے اِس زمین میں سارے جیے بہت
سب تجرِبے دوام کے بے کار ہو گئے
کتبے ہمارے نام کے تیار ہو گئے
اے ربِ کائنات! مدینے کا واسطہ
تجھ کو تِرے نبیؐ کے پسینے کا واسطہ
ہم کو معاف کر، نہ خطائیں ہماری دیکھ
ہونٹوں پہ اب لرزتی دعائیں ہماری دیکھ
اے ربِ ذوالجلال! زمانہ اداس ہے
اے خالقِ زماں!تِری رحمت کی پیاس ہے
بے بس ہیں یا خبیر کوئی راستہ اجال
بے بس ہیں یا مُجیر ہر اک ابتلا کو ٹال
نوید ملک
No comments:
Post a Comment