Friday, 24 December 2021

خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

 خدا کا لاکھ شکر ہے کہ سب نہاں نہیں رہے

جو آستیں کے سانپ تھے وہ اب یہاں نہیں رہے

نہ پہلے جیسی سرکشی نہ دل میں کوئی خواہشیں

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم جواں نہیں رہے

اور ایک دن ہم آپ کی یہ دنیا چھوڑ جائیں گے

خبر ملے گی آپ کو کہ؛ ہم یہاں نہیں رہے

بہت دنوں کی بات ہے یہیں کہیں پہ زخم تھے

یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اب نشاں نہیں رہے

نکل کے تیرے دل سے ہم جو لا مکاں میں کھو گئے

تُو سوچ کر ذرا بتا کہ اب کہاں نہیں رہے

ہمارے دل نے آج بھی ہمیں کہا کہ بات سُن

فلاں وفات پا چُکے، اور اب فلاں نہیں رہے


فیصل محمود

No comments:

Post a Comment