Friday, 24 December 2021

پھول چہرے پر وہ اشکوں کو مسلتی ہی رہی

 پھول چہرے پر وہ اشکوں کو مسلتی ہی رہی

آگ آہوں کی مگر من میں بھڑکتی ہی رہی

اک تبسم اس کی رعنائی سے کچھ کہتا رہا

اک ہنسی میرے لبوں پر بھی مہکتی ہی رہی

ریل کی سیٹی بجی، اور وہ جدا ہونے لگا

چیخ اک سینے میں دب کر پھر مچلتی ہی رہی

اس کی باتوں میں نشہ تھا سن کے سب حیران تھے

دیر تک بادِ صبا گلشن میں چلتی ہی رہی

عشق کے آزار یارو کس قدر سنگین تھے

جان پر ہر لمحہ آفت کوئی بنتی ہی رہی

خامشی سے بہہ رہا ہے جس طرح آبِ رواں

زندگی اپنی شہاب ایسے گزرتی ہی رہی


شہاب اللہ

No comments:

Post a Comment