Tuesday, 13 April 2021

بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا

 بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا

دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا

پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت

شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا

آہ، منظر کو یہ فرفاتی ہوئی بے سفری

ساتھ پگھلے ہوئے رستوں کے نشاں ہی رکھنا

کہہ نہ سکنا بھی بہت کچھ ہے ریاضت ہو اگر

زخم ہونٹوں کے سرِ عجزِ بیاں ہی رکھنا

جیسے وہ سانحہ لمحہ بھی زمانہ بھی ہے ساز

یاد اس شخص کے جانے کا سماں ہی رکھنا


عبدالاحد ساز

No comments:

Post a Comment