Saturday, 15 August 2020

دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل

رہنے دو چپ مجھے نہ سنو ماجرائے دل
میں حال دل کہوں تو ابھی منہ کو آئے دل
سمجھے کون کس سے کہوں راز ہائے دل
دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل
کب تک یہ ہائے ہائے جگر ہائے ہائے دل
کر رحم اے خدائے جگر، اے خدائے دل
دو لفظوں ہی میں کہہ دیا سب ماجرائے دل
خاموش ہو گیا ہے کوئی کہہ کے ہائے دل
آتے نہیں ہیں سننے میں اب نالہ ہائے دل
سنسان کیوں پڑی ہے یہ ماتم سرائے دل
ہوتا ہوں محو لذت دیدِ قضائے دل
باغ و بہار زیست ہیں یہ داغ ہائے دل
اب ہوچکی ہے جرم سے زائد سزائے دل
جانے دو بس معاف بھی کر دو خطائے دل
ہر ہر ادا بتوں کی ہے قاتل برائے دل
آخر کوئی بچائے تو کیونکر بچائے دل
اتنا بھی کوئی ہو گا نہ صبر آزمائے دل
سب سے لگائے تم سے نہ کوئی لگائے دل
اک سیل بے پناہ ہے ہر اقتضائے دل
ایسا بھی ہائے کوئی نہ پائے جو پائے دل
مجذوب تو بھی غیر خدا سے لگائے دل
عشقِ بتاں ہے بندۂ حق ناسزائے دل

عزیز الحسن مجذوب

No comments:

Post a Comment