رہنے دو چپ مجھے نہ سنو ماجرائے دل
میں حال دل کہوں تو ابھی منہ کو آئے دل
سمجھے کون کس سے کہوں راز ہائے دل
دل ہی سے کہہ رہا ہوں ماجرائے دل
کب تک یہ ہائے ہائے جگر ہائے ہائے دل
دو لفظوں ہی میں کہہ دیا سب ماجرائے دل
خاموش ہو گیا ہے کوئی کہہ کے ہائے دل
آتے نہیں ہیں سننے میں اب نالہ ہائے دل
سنسان کیوں پڑی ہے یہ ماتم سرائے دل
ہوتا ہوں محو لذت دیدِ قضائے دل
باغ و بہار زیست ہیں یہ داغ ہائے دل
اب ہوچکی ہے جرم سے زائد سزائے دل
جانے دو بس معاف بھی کر دو خطائے دل
ہر ہر ادا بتوں کی ہے قاتل برائے دل
آخر کوئی بچائے تو کیونکر بچائے دل
اتنا بھی کوئی ہو گا نہ صبر آزمائے دل
سب سے لگائے تم سے نہ کوئی لگائے دل
اک سیل بے پناہ ہے ہر اقتضائے دل
ایسا بھی ہائے کوئی نہ پائے جو پائے دل
مجذوب تو بھی غیر خدا سے لگائے دل
عشقِ بتاں ہے بندۂ حق ناسزائے دل
عزیز الحسن مجذوب
No comments:
Post a Comment