Sunday, 5 September 2021

پرندے آزمائے جا رہے تھے

 پرندے آزمائے جا رہے تھے

پروں سے گھر بنائے جا رہے تھے

کسی صحرا سے آتی تھیں صدائیں

کہیں پیڑوں کے سائے جا رہے تھے

گھروں سے لوگ ہجرت کر رہے تھے

چراغوں کو بجھائے جا رہے تھے

پرانے پیڑ کٹتے جا رہے تھے

نئے پودے لگائے جا رہے تھے

کہیں ما بعد ہم نے آنکھ کھولی

ہمیں سپنے دکھائے جا رہے تھے

محبت نا مکمل رہ گئی تھی

پرانے خط جلائے جا رہے تھے

ادھر سورج سروں پر آ رہا تھا

ادھر جسموں سے سائے جا رہے تھے

عجب وہ سانحہ تھا چھوڑ کر جب

سبھی اپنے پرائے جا رہے تھے


توصیف تابش

No comments:

Post a Comment